افسانہ

ہجرت

خادمان قلم
04 ستمبر 2026
13
0
ازقلم:مقصودہ شاہ بنت قاسم شاہ 
سردیوں کی ایک پُرسکون مگر پُراسرار رات تھی۔ شہر میں خوف و ہراس کی فضا طاری تھی۔ گلیاں سنسان اور مکانات ویران دکھائی دیتے تھے۔ عارف اپنے بوڑھے والدین اور چھوٹی بہن کے ہمراہ آبائی وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور تھا۔ اس کے دل میں اپنے وطن سے جدائی کا کرب اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی موجزن تھی۔والد نے گھر کی دہلیز پر کھڑے ہو کر حسرت بھری نگاہوں سے کہا، ’’بیٹا! انسان اپنا گھر، اپنی یادیں اور اپنی شناخت کیسے چھوڑ سکتا ہے ان سب کو چھوڑنا بہت مشکل ہے،کیا ایسا ہی ہے؟عارف نے ضبطِ غم سے جواب دیا، ’’ابا جان! حالات کی ستم ظریفی نے ہمیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ہو سکتا ہے کہ یہ ہجرت ہمارے لیے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو‘قافلہ خاموشی سے روانہ ہوا۔ راستے میں عارف نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو اجڑے ہوئے کھیت، ویران بستیاں اور دھند میں لپٹے درخت دکھائی دیے۔ اس منظر نے اس کے دل میں اضطراب پیدا کر دیا۔ اسے اپنے بچپن کی حسین یادیں یاد آنے لگیں۔ کبھی اسی گلی میں وہ دوستوں کے ساتھ کھیلتا تھا، مگر آج وہی گلیاں اجنبیت اور ویرانی کا استعارہ بن چکی تھیں۔نئے شہر میں زندگی دشوار تھی، کہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑامگر عارف نے عزم و استقلال کا دامن نہ چھوڑا۔ اس نے دن رات ایک کر کے اپنی محنت اور تعلیم جاری رکھی اور چند برسوں میں کامیابی حاصل کر لی۔ایک دن وہ اپنے والد کے پاس بیٹھا تو والد نے مسکرا کر کہا، ’’ عارف بیٹا! ہجرت نے ہم سے بہت کچھ چھینا، مگر تمہیں اپنے خوابوں کی تعبیر بھی تو دے دی،عارف نے مسکرا کر کہا، اباجان ’’واقعی، بعض اوقات ہجرت اختتام نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا نقطۂ آغاز ہوتی ہے۔